پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار کانفرنس ایوان صدر میں تقریب سے سنہری باب کا اضافہ

 

اسلام آباد(ماسٹر نیوز) دنیابھر میں بالخصوص پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئےامپلیمینٹیشن منارٹی رائیٹس فورم پاکستان نے آل نیبرز انٹرنیشنل کے اشتراک سے وزارت مذہبی امور و بین المذاھب ہم آہنگی حکومت پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمانی سروسسز میں مذہبی آزادی و اقلیتوں کے حقوق کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں؛آئی ایم آر ایف کا بنیادی مقصدپاکستان کے اقلیتی عوام کے آئینی و قانونی حقوق کا حصول ہے، چیئرمین سموئیل پیارا

کانفرنس کے چیف آرگنائزر سیموئیل پیارا نے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ کانفرنس کے پہلے سیشن کی مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری برائے امور خارجہ عندلیب خان تھیں جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں اقلیتی رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری برائے بین المذاہب ہم آہنگی شنیلہ روت سمیت مختلف ممالک کے سفیر حضرات و ترجمانوں سمیت بشپ صاحبان ، فادرز، پاسٹرز، علما حضرات اراکین صوبائی اسمبلیز، و مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں کانفرنس کا دوسرا سیشن میریئٹ ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں تمام شرکا نے موضوع کی مناسبت سے مشترکہ سفارشات پیش کیں۔ بعدازاں مورخہ 20 فروری 2021 کو ایوان صدر اسلام آباد میں کانفرنس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔


یہ بھی پڑھیں؛محنت اور جدوجہد ہی انسان کو اونچے مقام پر لے جاتی ہے؛ شنیلہ روت

سیموئیل پیارا نے استقبالیہ کلمات ادا کیے اور کانفرنس کے انعقاد کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب ڈاکٹر عارف علوی جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں پیر نور الحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، خالد جاوید خان اٹارنی جنرل پاکستان، شنیلہ روت اقلیتی رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، ڈاکٹر رحیم اعوان سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن سپریم کورٹ آف پاکستان، یورپین یونین، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ، سویڈن کے سفیر حضرات و دیگر ممالک کے نمائندگان، تمام مذاہب کے مذہبی رہنماو¿ں سمیت ملک بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

ضرور پڑھیں؛خواتین کو جرائم پیشہ افراد سے بچاؤ کےلیے آگہی اور شعور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے.“ روبن پطرسں

کانفرنس کا مقصد معاشرے میں مختلف مذاہب کے درمیان بھائی چارے اور ڈائیلاگ کی کاوشوں کو فروغ دینا تھا۔


مبصرین کا کہنا تھا کہ
اس ضمن میں مستقبل میں بھی ایسی کانفرنس کا انعقاد ہونا چاہے تاکہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے روک تھام کےلیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔


یہ بھی پڑھیں؛معاشرے میں بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے تعلیم وتربیت انتہائی اہم ہے، ایازمورس

 

جدید تر اس سے پرانی