توہین مذہب ندیم سیمسن کیس تین ماہ میں نپٹانے کی جج ہائی کورٹ کی ہدایت

دسمبر 12 , 2020 , کو ندیم سیمسن کیس کی ضمانت کی ہائی کوٹ میں سنوائی تھی ، جو کہ ریجیکٹ کر دی گئی ، ایک ماہ بعد ، پتہ چلا کہ ہائی کوٹ کے جج صاحب نے ،سیشن کوٹ کے جج صاحب کو ہدایت جاری کی ہے کہ کیس کو 3 ماہ کے اندر نپٹاتے ہوئے ، فیصلہ سنایا جائے۔ابھی ایک ماہ اور ایک ھفتہ گزر گیا لہٰذا ،باقی فیصلہ میں کچھ عرصہ رہ گیا ہے .

یہ بھی پڑھیں؛چیئرمین علماءکونسل نے توہین مذہب کے جھوٹے مقدمے میں 6مسیحیوں کو ملوث کرنے کی کوشش ناکام بنادی


 یاد رہے ، شاہدرہ ، لاھور میں 24 نومبر 2017 کو پراپرٹی جھگڑے پر 20 سالہ دیرینہ دشمنی کی بنیاد پر ، ندیم سیمسن عرف سیمی کے خلاف توہین مذھب کا جھوٹا کیس بناکر FIA کی ملی بھگت سے ندیم سیمسن کو غیر قانونی طور پر اٹھا لیا گیا۔بعد ازاں جسمانی تشدد کر کے ، " جبری اقرار جرم " کروا لیا گیا۔جس کو ابھی ٹرائل کرتے کرتے 3 سال ھو گئے ہیں۔ریاست نے ندیم سیمسن کے خلاف پہلے 8 پولیس اہلکاروں کو گواہ بنایا تھا ، مگر ابھی 3 سال بعد ، 3 نئے پولیس اہلکار بطو گواہ کیس میں شامل کر لئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ساون مسیح کی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے رہا کرنیکا حکم

 
یہ بھی یاد رہے ،کہ ندیم سیمسن کیس میں صرف ایک انسپکٹر ایف آءاے ، فخر عباس کے کہنے پر ،ایف ای آر درج کی گئی تھی ، تا حال کسی SP پولیس یا ہائر اتھارٹی نے ذاتی طور پر اس کی تفشیش نہیں کی.


ضرور پڑھیں؛مسیحی طالبہ سے غیر اخلاقی حرکات گرفتار استاد کا ایک روزہ ریمانڈ


"نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس" ,لاھور ڈایوسیس اس کیس کے لئے قانونی مدد فراہم کر رہی ہے۔
خاندان کی امریکہ کے نو منتخب صدر جو بایڈن ،وزیر اعظم پاکستان، نئے سیکرٹری آف اسٹیٹ ، چیف جسٹس آف پاکستان ، اور آرمی چیف سے اپیل ہے کہ پراپرٹی کی بنیاد پر،اس توہین مذہب کیس پر ،کی گئی ایک انسپکٹر کی تفشیش کو کالعدم قرار دے کر ، ندیم سیمسن کو جلد از جلد انصاف فراھم کرتے ہوئے رہا کیا جائے۔

جدید تر اس سے پرانی