کومل مسیح زیادتی کیس کے ملزمان گرفتار، تفصیلات سامنے آگئیں

 

شیخوپورہ (رپورٹ؛ تریضہ پیٹر)مورخہ 28دسمبر 2020 کوگلزار مسیح اپنی فیملی کے ساتھ اپنے عزیر واقارب کی شادی میں شرکت کے بعد خانقاہ ڈوگراں سے تقریبا 7 بجے رات واپس گاوں ککڑ گل آ رہے تھے جب یہ بسواری رکشہ موٹر وے پل سے آگے سیم نالہ پل پر پہنچے تو مسلح افراد نے ان کو روک کر 3 ہزار روپے نقدی اور 1 موبائل فون چھین لیا۔ اور اس کے بعد گلزار مسیح کی بیٹی کو زبردستی جھاڑیوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں؛کرسمس سے ایک ماہ قبل اغواءہونے والی مسیحی بہنوں کی لاشیں مل گئیں

؎ وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن فوری موقع پر پہنچے۔فوری طور پر قانونی کاروائی کی وقوعہ کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع پر ہی پولیس کی مختلف 10ٹیمیں تشکیل دیں۔ جس میں ایس پی انویسٹی گیشن نوید ارشاد اور ایڈیشنل ایس پی آصف امین کی سربراہی میں ڈی ایس پی صدر سرکل اور ڈی ایس پی سی آئی اے کی زیر نگرانی ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش شروع کر دی۔ PFSAکی ٹیم نے بروقت موقع پر پہنچ کر جائے 

یہ بھی پڑھیں؛ایک اور حوا کی بیٹی جنسی درندگی کا شکار


وقوعہ کو محفوظ کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے۔ وقوعہ کی جیو فینسنگ کی گئی۔ ملزمان کے حلیہ کے مطابق CRO سے تمام ریکارڈ کی فہرستیں مرتب کرکے مشتبہ گان کو شامل دریافت کیاگیا۔ ڈی پی او شیخوپورہ اور تمام ٹیم ممبران نے شب و روز محنت کرکے اس سنگین وقوعہ کو ٹریس کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع کو بروے کار لاتے ہوئے کوششیں شروع کردی۔ اس سلسلہ میں ضلع شیخوپورہ اور اردگرد کے اضلاع سے اس نوعیت کے وارداتیں کرنے والے سابقہ ریکارڈیافتہ ملزمان کو بھی شامل دریافت کیاگیا اور تقریبا 300سے زائد افراد کو اس سلسلہ میں انویسٹی گیشن کی گی۔وقوعہ کے اردگرد گزشتہ عرصہ میں ہونے والی تمام وارداتوں کے حلیہ جات کو مدنظر رکھتے ہوے درجنوں افرادکو شامل دریافت بھی کیا گیا۔


یہ بھی پڑھیں؛ بریکینگ :عثمان مسیح اور اس کی والدہ کا قاتل گرفتار

 وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے لڑکی کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا سخت نوٹس لیا اور مقدمہ کو جلد از جلد حل کر نے کی ہدایات دیں۔
ڈی پی او شیخوپورہ اور انکی ٹیمیوں CRO, IT, CIA,PFSA,نے تمام ممکنہ اقدامات کو تیز کرتے ہوئے شب و روز محنت کرکے ایک ہفتہ کے اندر اندر وقوعہ اور شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے ملزمان کو ٹریس کرلیا۔



 پولیس کی محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے اس سنگین وقعہ کے ملزمان .1 جاوید ولد پیربخش.2 جنید ولد پیر بخش.3 پرویز ولد پیر بخش قوم دیندار سکنائے ایشرکے جوکہ تینوں حقیقی بھائی ہیں اور انتہائی چالاک،شاطر اور سفاک گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تینوں ملزمان درجنوں ڈکیتی و چوری، راہزنی کے مقدمات میں مختلف تھانہ جات کو مطلوب تھے. جبکہ ان کے دو بھائی قتل او ر ڈکیتی کے مقدمات میں جیل میں بند ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ تمام بھائی اکٹھے مل کر وارداتیں کرتے تھے اور پولیس کافی عرصہ ان کی تلاش میں تھی۔یہ ملزمان ضلع فیصل آباد،حافظ آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں سنگین نوعیت کی وارداتوں میں بھی مطلوب تھے۔یہ ملزمان شیخوپورہ میں وارداتیں کرکے دوسر ے اضلاع میں فرار ہو جاتے اور وہاں وارداتیں کرکے واپس شیخوپورہ آجاتے۔

یہ بھی پڑھیں؛گوجرانوالہ؛ گلی میں نالی کے تنازعہ پر مسیحی ماں اور بیٹے کو گولیوں سے چھننی کردیا

 

 ملزمان کو ڈی پی او شیخوپورہ کی راہنمائی میں ٹیم ڈی ایس پی صدر سرکل عمران عباس چدھڑ اور ڈی ایس پی سی آئی اے ریاض عباس شاہ کی سربراہی میں ایس ایچ او صدر فاروق آباد سرفراز یوسف کے ہمراہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سمندری ضلع فیصل آباد سے گرفتار کرلیا۔ جن کے قبضہ سے مال مسروقہ موبائیل و نقدی اور اسلحہ بھی برآمدکرلیا۔دوران دریافت ملزمان نے وقوعہ ڈکیتی و زنائ کے متعلق اقبال جرم کیا۔موقع کی نشاندہی بھی کروائی اور ملزمان کی متاثرہ لڑکی سے شناخت بھی کروائی۔ مزید تصدیق کیلیے ملزمان کو ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا گیا۔جس کی رپورٹ کے مطابق جنید اور پرویز کا متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنا ثابت ہوا۔ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کاروائی کی جارہی ہے۔


جدید تر اس سے پرانی