کرسمس کے دنوں میں دوسری آنکھ مل گئی، موسیٰ شہزاد کے لیے معجزہ ہوگیا

(تحقیق و تحریر ؛ تریضہ پیٹر)



گوجرہ ؛ چک 424کے نو سالہ ننھے بچے موسیٰ شہزادکے لیے کرسمس کے ایام میں دوسری آنکھ مل جانے کا معجزہ ہوگیا ۔
موسیٰ دو سال کا تھا جب اس کی آنکھ قینچی لگنے سے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئی۔ محنت مزدوری کرنے والے باپ کو بیٹے کی چار سال کی عمر میں علم ہوا کہ موسیٰ کی دوسری آنکھ نے زخمی ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی بینائی کھو دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛اغواءکاروں کےچنگل سےبھاگ نکلنے والی مسیحی بچی کی خبر، وزیر برائے انسانی حقوق نے نوٹس لے لیا



 

موسیٰ کو دوسری آنکھ لگوانے کے لیے خدا نے جس انسان کو وسیلہ بنایا وہ کرسچن کیئر ہینڈ کے چیئرمین سنیل گل ہیں جنہیں یوبرٹ جارجHPC Alabny USA، چوہدری خالد بیلجیم ، جاوید عنایت یو کے ، سسٹر اگنیس وحید یو کے ، پاکستان سے بھائی داﺅد جارج ، باجی روبی تیماں ریت ویل کرسچن ٹاﺅن سیالکوٹ نے مالی معاونت مہیا کی تاکہ بچے کی آنکھ کا آپریشن کروایا جاسکے۔



تفصیلات بتاتے ہوئے کرسچن کیئر ہینڈ کے سربراہ نے بتایا کہ میری موسیٰ شہزاد سے 16اکتوبر کو ملاقات ہوئی ۔ پھر 29 اکتوبر کو ڈاکٹر سے اپائٹمنٹ لے کر فیصل آباد چیک اپ کے لیے گئے۔ چار نومبر کو ڈاکٹر نے موسیٰ شہزاد کو الائیڈ ہاسپٹل فیصل آباد ریفر کیا ۔ دس نومبر کو موسیٰ کا آپریشن الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں کامیابی سے ہوا اور 30 نومبر کو ڈاکٹر عثمان نے موسیٰ کو آرٹیفیشل آنکھ لگا کر سارے پراسیس کو مکمل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں؛فخرِ مسیحی قوم شانزہ ماریہ سب انسپکٹر تعینات



 موسیٰ کو آنکھ لگنے کے بعد کے حسین لمحات کو یاد کرتے ہوئے سنیل گل لکھتے ہیں ”جب میں موسیٰ کے گھر سے واپس آنے لگا تو یہ بار بار پیچھے آکر میرے ساتھ مل رہا تھا اسکی آنکھ لگنے کے بعد یہ کہتا ہے اب میں باہر جاو¿نگا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلونگا اسکی خوشی آپ اسکے چہرے سے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ یہی مسیحت ہے جب آپ کسی کو جینا سکھا دیتے ہیں آگے بڑھیں اور خدا کے نام کو جلال دیں “۔

جدید تر اس سے پرانی