مہک مسیح دو ماہ گزرنے کے باوجود لاپتہ، والدین کو قتل کی دھمکیاں ،رو رو کر انصاف کی دہائی

 


مہک مسیح دو ماہ گزرنے کے باوجود لاپتہ، والدین کو قتل کی دھمکیاں ،رو رو کر انصاف کی دہائی


لاہور (تریضہ پیٹر سے)چونگ بلال ٹاﺅن رائیونڈ روڈ لاہور کی رہائشی چودہ سالہ مہک مسیح جسے اس کے پینتالیس سالہ ہمسائے عدنان نے اغواءکر لیا تھادو ماہ گزر جانے کے باوجود بازیاب نہ ہوسکی۔

 
اغواءکار ہمسایہ عدنان اور اس کی فیملی راز کھلنے کے بعد مہک کے خاندان کو قتل کی دھمکیاں دینے لگے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں؛اغواءکاروں کےچنگل سےبھاگ نکلنے والی مسیحی بچی کی خبر، وزیر برائے انسانی حقوق نے نوٹس لے لیا


میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے مہک مسیح کے والدین نے بتایاکہ جب ہر طرف سے دو ماہ دن رات کی کوششوں کے بعد مایوس ہوگئے تو ہم نے یہ معاملہ میڈیا پر اُٹھانے کے لیے اپیل کرنا شروع کردی ہے۔


مہک کے والد نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی اغواءہوئی وہ معمول کے مطابق اپنے کام پر تھے۔ گیارہ بجے انہیں ہمسائے عدنان نے کال کی کہ آپکی بیٹی گھر پر نہیں ہے۔ ہمیں نہیں علم تھا کہ اصل اغواءکار یہ خود ہے۔ جب ہم نے کال ریکارڈ نکلوایا تو اس کے نمبر پر پینتالیس کالیں نکلیں ۔

 

مہک مسیح کے والد

ضرور پڑھیں؛آرزو کے بعد مسیحی بچی ہما کی بازیابی؟

 
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے سامنے بھی اس نے اقرار کیا ہے کہ مہک میرے پاس تھی مگر اب مجھے معلوم نہیں ۔عدنان کی فیملی کی خواتین کہتی ہیں کہ لڑکی ہمارے پاس ہے اور اب ہم تمہیں واپس نہیں دیں گے۔ جبکہ عدنان کے بھائی نے کہا کہ اگر تم نے کیس واپس نہ لیا تو تمہیں گولی مار دوں گا۔

مہک کی دادی

مہک کی والدہ اور دادی نے بتایا کہ مہک تیسری کلاس کی طالبہ ہے ۔اب دو ماہ ہو گئے ہیں ہماری بیٹی کا ہمیں کوئی علم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ ہمسائے مہک کے والد کو اب دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ ہمیں پولیس کے ذریعے بھی تاحال کوئی مثبت پیش رفت نہیں نظر آئی۔
مہک کی والدہ

مزید پڑھیں؛مبارک ھو مہک کماری کے بعد مائرہ شہباز بھی مل گی۔

 

 انہوں نے وزیر اعظم عمران خان، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اورصوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور جناب اعجاز عالم سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے اور بچی بازیاب کرائی جائے۔ والدین نے مہک کی بازیابی کے لیے مسلم اور مسیحی کمیونٹی کو ساتھ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی