مذہب تبدیل کرکے شادی سے انکار پر مسیحی لڑکی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا؛ مکمل کہانی




راولپنڈی (تریضہ پیٹر سے ) چوبیس سالہ سونیا ایک مسیحی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور راولپنڈی کی رہائشی تھی۔ سونیا فیکٹری میں کام کر کے اپنے گھر کا چولہا جلانے میں گھر والوں کا ساتھ دیتی تھی اور اپنی فیملی کا آسرا بنی ہوئی تھی۔ وہ اپنے مسیحی ایمان میں مظبوط اور خوش تھی۔ محنت مزدور کرکے بھرپور زندگی گزار رہی تھی۔

محلے کے دو اوباش نوجوان محمد شہزاد عرف شانی اور محمد فیضان فیکٹری آتے جاتے سونیا کا تعاقب کرتے تھے۔

 

یہ بھی پڑھیں؛اغواءکاروں کےچنگل سےبھاگ نکلنے والی مسیحی بچی کی خبر، وزیر برائے انسانی حقوق نے نوٹس لے لیا

 

وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے ایک نوجوان کی دلچسپی بڑھی تو اس نے سونیا کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ سونیا اپنے گھر کے نظام کو چلانے اور فیملی افراد کی کسی سے لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے یہ سب چپ چاپ برداشت کرتی رہی۔

آخر کار ان اوباشوں میں سے ایک جس کا نام شہزاد تھا نے سونیا کو شادی کرنے کے لیے رضامند کرنا شروع کردیا۔ ظاہر ہے سونیا دوسرے مذہب کی تھی لہذا اس نے بڑی عزت سے شہزاد کو سمجھایا کہ میں ایک مسیحی لڑکی ہوں اور ہماری شادی نہیں ہوسکتی۔ جس کے بعد شہزا دنے اسے زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا تقاضہ شروع کردیا۔

 

یہ بھی پڑھیں؛رکنِ پنجاب اسمبلی حناپرویز بٹ نے جبری مذہب تبدیلی کے خاتمے کیلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی

 

جب لڑکی کو کردار اور ایمان میں مظبوط پایا تو شہزاد نے اس کے گھر رشہ بھیج ڈالا ۔ گھر والوں نے بھی دوسرے مذہب کا ہونے کے ناطے انکار کردیا۔
شہزاد اس انکار پر سیخ پا ہوگیا اور اگلے دن سونیا کو فیکٹری جاتے ہوئے اغواءکرنے کے لیے دوستوں کے ہمراہ آیا تاکہ جبری مذہب تبدیلی سے نکاح کرلے ۔ سو نیا اپنے ایمان میں مضبوط تھی۔ اس نے ساتھ جانے سے انکار اور اغواءکی کوشش پر مزاحمت شروع کردی ۔ شہزاد ساتھیوں سمیت اپنے منصوبے کو ناکام ہوتا دیکھ کر سونیا کو گولی مار کر فرار ہوگیا۔

اپنے والدین کی پیاری ، فیکٹری میں کام کرکے گھر والوں کی مشکلات کم کرنے کے جذبے سے سرشار سونیا نے ایمان اور عزت کو بچانے کے لیے موت کو گلے لگا لیا۔ سونیا ہمیں تم پر ناز ہے۔

مسیحی کمیونٹی سونیا کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

 

ضرور پڑھیں؛آرزو کے بعد مسیحی بچی ہما کی بازیابی؟

 


جدید تر اس سے پرانی