اغواءکاروں کےچنگل سےبھاگ نکلنے والی مسیحی بچی کی خبر، وزیر برائے انسانی حقوق نے نوٹس لے لیا

 


سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو 16سالہ مسیحی بیٹی شیزا مقصود کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی خبر کا نوٹس۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور ہیومن رائٹس منسٹر جناب اعجاز عالم آگسٹین صاحب نے لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں؛

موجودہ حکومت نے چائلڈ میرج ایکٹ میں ترمیم کے بعد سزا کا عمل یقینی بنادیا ہے؛صوبائی وزیر انسانی حقوق

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد بسم اللہ کندھا سے اغوا ہونے والی 16 سالہ مسیحی بیٹی شیزا مقصود کو اس کے گھر سے اغوا کیا گیا جبری تبدیلی مذہب ہونے کے بعد ،بائیس سالہ تحلال چوہدری سے شادی کر کےنامعلوم جگہ پر لے گئے لڑکے کی ماں بہن سب اس پر ظلم و تشدد کرتے رہے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر ان کے چنگل سے بچ کر کسی طریقے سے اپنے بھائی کو کال کی اور بخیریت اپنے گھر پہنچ گئی۔

ضرور پڑھیں؛ہما آرزو کی جبری مذہب تبدیلی کے خلاف رواداری تحریک کا اقلیتی اراکین اسمبلی سے احتجاجاً مستعفی ہونے کا مطالبہ

 

یہ بات شیزا مقصود نےپاکستانی کرسچن کرنٹ افیئر پروگرام کے میزبان ناصر رضا سینئر صحافی و سماجی کارکن سے فون پر بات کرتے ہوئے بتائی۔اور مزید کہا میری مسیحی قوم سے وزیر اعلی پنجاب گورنر پنجاب سے درخواست ہے ان کے خلاف سب سے سخت کاروائی کی جائے اور مجھے انصاف دلوایا جائےجس پر ناصر رضا نے منسٹر ہومن رائٹس جناب اعجاز عالم آگسٹین صاحب کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا انہوں نے اس خبر کا نوٹس لیا۔


یہ بھی پڑھیں؛رکنِ پنجاب اسمبلی حناپرویز بٹ نے جبری مذہب تبدیلی کے خاتمے کیلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی

اور واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت ڈی پی او فیصل آباد کو دے دی۔

ضرور پڑھیں؛آرزو کے بعد مسیحی بچی ہما کی بازیابی؟

 

جدید تر اس سے پرانی