مسجد ، مدرسہ ، امام بارگاہ ، چرچ کی بیٹری کا ہر کام فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے



لاہور(تحریر؛ شکیل انجم ساون)مسجد ، مدرسہ ، امام بارگاہ ، چرچ کی بیٹری کا ہر کام فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے۔ یہ تحریر اس اشتہاری پینافلیکس کی ہے جو گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ پاکستان کے اقلیتی سوشل میڈیا صارفین میں اس پوسٹ کو بہت پسند کیا جارہا ہے اور پوسٹ و شیئر کیا جارہا ہے۔

 

ضرور پڑھیں؛شانتی نگر۔۔۔۔۔۔۔نگر بے اماں کیوں(کالم)، تحریر: سیمسن جاوید۔ نیو کاسل

 

گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں جہاں آرزو راجا، ہما یونس، فرخ شاہین،شیزہ مقصود، عرفان اور اس کی والدہ قتل کیس اور قمر مسیح تشدد کیس جیسی دل دہلا دینے اور انسانیت سوز خبروں نے دما غ کو سن کر دیا ہے وہیں آرزو کیس کے لیے جبران ناصر کا آگے بڑھنا(اگرچے بعض لوگ ان کے منفی کردار کو اس کیس سے جوڑ رہے ہیں)، ایس ایچ او عرفان بھنڈر کا عرفان اور اس کی والدہ کے قاتلوں کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرنا اور پھر دایان خان بیٹری سروس کا یہ اشتہار تند ُ و تیز ہواﺅں میں اچھے و مسحور کن ہوا کا جھونکا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں؛مسیحی ماں بیٹا کے قاتل کی چند گھنٹوں میں گرفتاری پر ایس ایچ او عرفان بھنڈر کو تعریفی سرٹیفکیٹ جاری

 

ہمیشہ بڑے بزرگوں سے سنا ہے کہ پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں جس کا مطلب یہی بنتا ہے کہ جہاں معاشرے میں تعصب پسند، تشدد پسند، فرقہ پرست اور انتہا پسند لوگ ہوتے ہیں وہیں انسانیت دوست، مذہبی ہم آہنگی کے حمایتی، امن پسند اور انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔

 

یہ بھی پڑھیں؛عارضی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا قیام، سپریم کورٹ کے 14 جون 2014 کےحکم سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

 یہ دنیا شاید قائم بھی ایسے اچھے لوگوں کی وجہ سے ہے۔ ہماری بھی یہی کوشش ہونا چاہئے کہ ہم مثبت ، تعمیری اور امن پسند انسان کے طور پر معاشرے میں مثبت رجحان کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

جدید تر اس سے پرانی