آرزو کے بعد مسیحی بچی ہما کی بازیابی؟


گزشتہ برس اغوا ہونے والی 14 سالہ مسیحی بچی ہما یونس کی والدہ نے آرزو راجا کی بازیابی پر خوشی اور شکر کا اظہار کرتے ہوئے مسیحی قوم سے اپیل کی ہے کہ آرزو کی بازیابی کے لیے جس طرح مسیحی قوم نے بھرپور جدوجہد کی ہے اسی طرح ہما یونس کی رہائی کے لیے بھی مل کر جدوجہد کی جائے تاکہ ان کی بیٹی بھی انہیں واپس مل سکے

یہ بھی پڑھیں؛مسیحی قوم کو مبارک ہو،آروز بیٹی کو بازیاب کرا لیا گیا۔

یاد رہے 3 فروری کو کراچی ہائی کورٹ کے جج محمد اقبال کلہورو اور ارشد علی شاہ نے مسیحی لڑکی ہما یونس کے جبراً مذہب و نکاح کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ شرعی قانون کے مطابق اگر لڑکی کا پہلا حیض واقع ہو جاتا ہے تو وہ شادی کر نے کے لائق ہو جاتی ہے۔

ضرور پڑھیں؛ہما آرزو کی جبری مذہب تبدیلی کے خلاف رواداری تحریک کا اقلیتی اراکین اسمبلی سے احتجاجاً مستعفی ہونے کا مطالبہ

 یاد رہے کہ ہما یونس کراچی کی رہائشی ہے اور 10 اکتوبر 019 2 کو گھر سے زبردستی اٹھالی گئی تھی۔ ججز صاحبان کے ان ریماکس پر مسیحیوں کو ہائی کورٹ سے انصاف کی جو امید تھی۔ یہ ریمارکس سن کربہت مایوسی ہوئی۔

جدید تر اس سے پرانی