ہما آرزو کی جبری مذہب تبدیلی کے خلاف رواداری تحریک کا اقلیتی اراکین اسمبلی سے احتجاجاً مستعفی ہونے کا مطالبہ

لاہور (رپورٹ؛ شکیل انجم ساون) رواداری تحریک پاکستان نے ہما آرزو کے اغواءاور جبری مذہب تبدیلی کے خلاف احتجاجاً تمام اقلیتی ارکین اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛پاسٹر انور فضل نوائے مسیحی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ دیکھئے خصوصی ویڈیو

 
اپنے خصوصی ویڈیو بیان میں چیئرمین رواداری تحریک نے تمام اراکین اسمبلی لعل چند ملہی،شنیلہ روت، رمیش کمار، جے پرکاش، جمشید تھامس، ڈاکٹر درشن، کھیل داس کوہستانی، رمیش لال،نوید عامر جیوا،جیمز اقبال اور چاروں صوبائی اسمبلیوںسندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی، بلوچستان اسمبلی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اقلیتی نمائندگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جبری مذہبی تبدیلی کے تسلسل سے ہونے والے واقعات پر اسمبلیوں میں موثر آواز اُٹھانا اقلیتی اراکین اسمبلی کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛آئی ایم آر ایف کا بنیادی مقصدپاکستان کے اقلیتی عوام کے آئینی و قانونی حقوق کا حصول ہے

انہوں نے کہا کہ اگر اقلیتی نمائندگان جبری مذہب تبدیلی اور جبری شادیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنادشوار سمجھتے ہیں اور اتنے عرصے میںوہ کوئی قانونی سازی کرانے میں بھی ناکام ہیں تو بہتر حل یہی ہے کہ وہ احجاجاً استعفے دے کر اپنی عوام میں آجائیں اور عوامی پلیٹ فارم سے اپنی آواز بلند کریں ۔


یہ بھی پڑھیں؛محنت اور جدوجہد ہی انسان کو اونچے مقام پر لے جاتی ہے؛ شنیلہ روت 

 کم از کم ایسا کرنے سے اقلیتی عوام ان کے شانہ بشانہ ضرور کھڑی ہوگی۔ آئیں اور قوم کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوجائیے۔


جدید تر اس سے پرانی